مراد آباد : انڈین صوفی فاؤنڈیشن نے وقف ترمیمی بل کی حمایت کی ہے اور اس کو وق کی ضرورت قرار دیا ہے ۔ تنظیم کے صدر کاشف وارثی نے جمعرات کو وقف (ترمیمی) بل 2025 کا خیر مقدم کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ پہلے وہ اس بل کو پڑھیں۔
یا د رہے کہ بدھ کو لوک سبھا میں طویل بحث کے بعد وقف (ترمیمی) بل 2025 کو منظور کر لیا گیا۔ اس بحث کے دوران، انڈیا بلاک کے اراکین نے بل کی سخت مخالفت کی، جبکہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے اس کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل شفافیت لائے گا اور وقف بورڈز کی کارکردگی میں بہتری پیدا کرے گا۔کاشف وارثی نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی لوک سبھا میں تقریر سے واضح ہو گیا ہے کہ اس بل کا مقصد مسلمانوں کے خلاف کسی بھی قسم کی بدنیتی نہیں بلکہ یہ غریب مسلمانوں کے لیے ایک تحفہ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں پارلیمنٹ میں اس بل کی منظوری پر حکومت کو مبارکباد دیتا ہوں۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی تقریر سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس وقف بل سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ میں ملک کے مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس بل کو خود پڑھیں۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے صرف ایک کام کیا ہے، وہ ہے بی جے پی کے نام پر خوف پھیلانا، لیکن اب صاف ہو گیا ہے کہ مسلمانوں کا حقیقی دوست کون ہے اور دشمن کون۔ وقف بل غریب مسلمانوں کے لیے ایک تحفہ ثابت ہوگا۔
وقف (ترمیمی) بل 2025 کولوک سبھا میں اکثریتی ووٹ کے ساتھ منظور کیا گیا۔ لوک سبھا میں 12 گھنٹے کی طویل بحث کے بعد بل کو 288 ووٹوں کے ساتھ منظور کیا گیا، جبکہ 232 اراکین نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔یہ بل 1995 کے ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے بھارت میں وقف جائیدادوں کے انتظام و انصرام کو بہتر بنانے کا ہدف رکھتا ہے۔ اس کا مقصد پرانے قانون کی خامیوں کو دور کرنا اور وقف بورڈز کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔ بل کے ذریعے رجسٹریشن کے عمل کو مزید شفاف بنانے اور وقف ریکارڈز کے انتظام میں ٹیکنالوجی کے کردار کو بڑھانے کا عزم کیا گیا ہے۔