خبردار: اپریل سے جون تک جان لیوا ہیٹ ویوز کا خدشہ

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | Date 04-04-2025
 اپریل سے جون تک طویل ہیٹ ویوز
اپریل سے جون تک طویل ہیٹ ویوز

 

 نئی دہلی : ملک ایک مرتبہ پھر انتہائی شدید اور طویل گرمی کی لہروں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، اپریل سے جون کے دوران کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا اور گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔

ہیٹ ویو کے دنوں میں اضافہ

انڈین محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کا کہنا ہے کہ اس سال جھارکھنڈ، اتر پردیش، چھتیس گڑھ اور اوڈیشہ جیسے خطوں میں ہیٹ ویو کے دنوں کی تعداد 11 تک پہنچ سکتی ہے۔ہیٹ ویو ایسی موسمی کیفیت کو کہا جاتا ہےجب درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے،شدی سے انسانی صحت اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کی وارننگ: شدید گرمی کی نئی لہریں متوقع

محکمہ موسمیات کے سربراہ مرتیونجے مہاپاترا نے حالیہ بریفنگ میں کہا کہ وسطی، شمالی اور مشرقی انڈیا میں ہیٹ ویوز کی شدت تاریخی اوسط سے تجاوز کر سکتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی: ’اس سال، شمالی اور مشرقی انڈیا کے علاوہ وسطی علاقوں اور شمال مغربی میدانی خطے میں عام دنوں کے مقابلے دو سے چار گنا زیادہ ہیٹ ویو کے دن دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔‘

غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیاں اور فصلوں کو درپیش خطرات

رواں سال کا آغاز غیر معمولی گرمی کے ساتھ ہوا، جس کے اثرات پورے ملک میں محسوس کیے گئے۔ فروری کا مہینہ انڈیا اور عالمی سطح پر ریکارڈ شدہ سب سے گرم مہینوں میں شامل رہا۔ ماہرین کے مطابق، اس غیر متوقع درجہ حرارت میں اضافے سے گندم، چنے اور سرسوں جیسی فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

ممبئی، گوا اور کرناٹک میں گرمی کی لہر کا جلد آغاز

موسمیاتی ادارے نے فروری کے اختتام تک مغربی اور جنوبی انڈیا کے کچھ علاقوں، بشمول ممبئی، گوا اور کرناٹک، میں ابتدائی ہیٹ ویو کی اطلاع دی تھی۔ عام طور پر انڈیا میں گرمی کی لہریں اپریل سے جون کے دوران دیکھی جاتی ہیں، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یہ پیٹرن بگڑ چکا ہے، اور اب شدید گرمی پہلے آتی ہے اور زیادہ دیر تک رہتی ہے۔

2024 میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت اور متاثرہ افراد

گزشتہ سال، انڈیا کے اندر راجستھان میں درجہ حرارت 50.5 ڈگری سیلسیس تک پہنچا، جو ملکی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ تھا۔ اسی دوران، ملک بھر میں گرمی سے متاثرہ افراد کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ وزارت صحت نے 143 اموات کی تصدیق کی، لیکن آزاد محققین کے مطابق، یہ تعداد حقیقت میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

توانائی کے شعبے پر دباؤ اور ممکنہ بلیک آؤٹس

شدید گرمی کی وجہ سے گھریلو اور صنعتی سطح پر ایئر کنڈیشنرز کے استعمال میں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے بجلی کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سال بجلی کی کھپت میں 10 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بلیک آؤٹس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے ایک مطالعے کے مطابق، اگر انڈیا نے ایئر کنڈیشنرز کے توانائی کے مؤثر معیار کو بہتر نہ کیا تو اگلے چند سالوں میں بجلی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیاں اور شدید گرمی کی لہریں

کلائمٹ سینٹرل کی ایک تحقیق کے مطابق، انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے فروری میں ممبئی اور گوا میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کو تین سے پانچ گنا زیادہ ممکن بنایا۔ ماہرین عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ عالمی حدت انڈیا میں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے