قوم پرستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ۔ مولانا مفتی مکرم احمد

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 16-03-2021
مولانا مفتی مکرم احمد ۔ شاہی امام فتحپوری مسجد
مولانا مفتی مکرم احمد ۔ شاہی امام فتحپوری مسجد

 


۔ ہندوستانی مسلمان ایڈجسٹ ہونا جانتے ہیں،یہی خوبی انہیں دنیا میں خاص بناتی ہے۔

۔ سب مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ محبت اور اخلاق لازمی ہے۔ 

۔ مسلمان سیاست میں اپنی ذمہ داری نبھانا نہیں چاہ رہے ہیں یا انہیں کوئی ڈر ستا رہا ہے۔

۔ بڑی بڑی مسلم تنظیمیں خاموش بیٹھی ہیں ۔

۔ قوم پرستی میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ۔

۔ کشمیر میں دہشت گردی کا دور چلا تو ایک بھی ہندوستانی مسلمان اس کا حصہ نہیں بنا۔

۔ میں سیاست نہیں کرتا،میری کسی سیاسی پارٹی سے دوستی ہے نہ دشمنی۔میں کسی سیاسی پارٹی کا دشمن نہیں ہوں۔ کسی لیڈر کا دشمن نہیں ہوں۔

ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد، مسجد فتح پوری، دہلی کے شاہی امام ہیں۔انہیں دہلی میں مسلمانوں کے ایک اہم امام اور مفتی کے ساتھ رہنما کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔وہ پانچ بین الاقوامی زبانوں میں ماسٹر ہیں اور جدید عربی ادب میں پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعہ انھیں متعدد مواقع پر مدعو کیا جاتا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے مندوبین شاہی امام سے اپنے خیالات کا تبادلہ کرنے کے لئے مسجد فتح پوریکا رخ کرتے رہے ہیں۔ وہ متعدد اسلامی کتب اور دیگر اسلامی مطبوعات کے مصنف اور مدیر رہے ہیں۔سیاست اور سماجی مسائل کے ساتھ مذہبی امور پر بہت متوازن رائے دینے کےلئے جانے جاتے ہیں ۔حال ہی میں’آواز دی وائس’اردو کے‘ مدیر’منصورالدین فریدی سے ایک خاص انٹرویو میں انپوں نے مختلف موضوعات پر طویل گفتگو کی ۔جو پیش خدمت ہے۔

سوال: دنیا بھر میں مسلمانوں کی دقیانوسی امیج کو منفی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔مسلمان ایک پروگریسیو امیج کیلئے کیا کرسکتے ہیں؟

مولانا مفتی مکرم احمد: ارے جناب۱اب مسلمان بہت پروگریسیو ہوگئے ہیں،اب کہیں دقیانوسی پن نظر نہیں آئے گا۔تعلیم سے طرز زندگی تک ہر سطح پر مسلمانوں نے ترقی پسندی کا ثبوت دیا ہے۔یہ الزام غلط ہے۔ اذان دینا،نماز پڑھنا،روزہ رکھنا روایتی لباس زیب تن کرنا یا اور حج کرنا دقیانوسی پن نہیں ہے۔ مسلمان بہت ماڈرن ہوگئے ہیں ہمیں تو یہ شکایت ہے کہ مسلمان بہت ہی زیادہ ماڈرن ہوگئے ہیں۔انہوں نے اپنے مذہب کو ہی چھوڑ دیا ہے اور ماڈرن زندگی میں یا فیشن میں دوسروں کو دیکھ کر دور ہو رہے ہیں۔ بے شک کچھ مسلمان بھٹک گئے ہیں،بہک گئے ہیں،جنہیں ورغلایا گیا ہے۔وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں جو اسلام،قرآن اور مسلمان بدنام ہورہے ہیں۔

مگر انفرادی طور پر کسی کی بد عملی کی ذمہ داری کسی مذہب پر ڈالنا غلط ہے۔ ”پیغمبر اسلام دوسرے مذہب کے لوگوں کا کھڑے ہوکر استقبال کیا کرتے تھے،انہیں بٹھایا کرتے تھے،،ہمیں بھی ہر مذہب والے کے ساتھ محبت اور پیار کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے۔ بلاشبہ حسن سلوک کی ضرورت ہے“۔

سوال: کیا آجکل اسلام صرف دکھاوے کارہ گیا ہے۔مسلمان اس پرعمل کم کررہے ہیں؟

مولانا مفتی مکرم احمد:بالکل!یہ بات درست ہے۔ ہم دکھاوے کی دوڑ میں لگ گئے ہیں مگر دیکھئے! ریا کاری اور نمائش کیلئے اسلام اور شریعت میں منع کیا گیا ہے۔آج ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ بس دنیا میں نام ہو۔ایسا کوئی بھی عمل اسلام میں قابل قبول نہیں ہے۔آپ نکاح تو مسجد میں کرتے ہیں سادگی کے ساتھ لیکن اس کے بعد شادی کی تقریب میں لاکھوں روپئے خرچ کئے اور دھوم دھام برپا کردی۔یہ دکھاوا ہے جو مذہب نے ہمیشہ منع کیا ہے۔

  اگر آپ ایک دن میں پانچ وقت کی نماز میں ایک گھنٹہ گزارتے ہیں تو 23گھنٹے دنیا کیلئے ہیں۔

سوال:آپ ہندوستانی مسلمانوں میں کیا خوبیا ں دیکھتے ہیں؟

مولانا مفتی مکرم احمد: ہندوستانی مسلمان کچھ خاص ہیں۔ہم ایڈجسٹ ہونا جانتے ہیں۔اس سرزمین پر سب مل جل کر رہنا جانتے ہیں۔

آپ اس فتحپوری مسجد کو دیکھئے!اس کے اردگرد غیر مسلم آبادی ہے اور ہر جمعہ کو دس ہزار سے زیادہ لوگ نماز ادا کرتے ہیں لیکن آج تک کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔مقامی غیر مسلم لوگ مسجد سے پانی لے جاتے ہیں،راستے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مسجد میں آکربیٹھتے ہیں،ہم سب آدم کی اولاد ہیں۔ سب انسان ہیں۔ایک خون ہے۔ایک دور میں مسلمانوں نے ہندوستان پر حکومت کی،کسی سے امتیاز نہیں برتا،کسی غیر مسلم کو نقصان نہیں ہوا۔جب انگریز آیا تو کوئی مسلمان غداروں کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔

آزادی کے بعد ابولکلام آزاد سے اے پی جے عبدالکلام تک ہر مسلمان نے اس ملک کی خدمت کی ہے۔قوم پرستی میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔آزادی کی لڑائی ساتھ لڑی،ملک کی ترقی میں ساتھ رہے اور کبھی غلط راستہ نہیں اپنایا۔کشمیر میں دہشت گردی کا دور چلا تو ایک بھی ہندوستانی مسلمان اس کا حصہ نہیں بنا۔جس پر ایک وقت سابق وزیر اعظم آئی کے گجرال نے حیرت بھی ظاہر کی تھی کیونکہ حکومت کو کہیں نہ کہیں ایسا ہونے کا ڈر تھا لیکن ایسا کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔

awaz

فتحپوری مسجد کے اردگرد ہندو آبادی ہے لیکن آج تک کبھی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ ،ہم سب مل کر رہنے کے عادی ہیں۔ مولانا مفتی مکرم

سوال:دین اور دنیا میں توازن کیسے ہوسکتا ہے؟

مولانا مفتی مکرم احمد: اسلام میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔اگر نماز کا حکم ہے تو تجارت اور ملازمت کا بھی زور ہے۔ روزگار کیلئے جدوجہد کا حکم ہے۔اگر آپ ایک دن میں پانچ وقت کی نماز میں ایک گھنٹہ گزارتے ہیں تو 23گھنٹے دنیا کیلئے ہیں۔کام کیلئے ہیں۔تعلیم کیلئے ہیں۔اس میں توازن بہت ضروری ہے۔زندگی کے ہر شعبہ میں اس کا ہونا لازمی ہے۔ایسا پیغمبر اسلام کے دور میں بھی ہوتا تھا۔ توازن اور اعتدال بہت ضروری رہا۔مذہب کو چھوڑنا غلط ہے اور مذہب کو بالکل دقیانوسی بنا کر پیش کرنااور دنیا داری سے دور رہنا بھی غلط ہے۔توازن تو رہنا چاہیے۔کیونکہ توازن یا بیلنس ہی کام آتا ہے۔توازن کا مطلب ہے ”اعتدال“۔بیچ کا راستہ ہے اس کو اپنانا چاہیے۔ عام زندگی میں مسلمانوں کو صاف ستھرا رہنا چاہیے۔ گندے کپڑوں اور گندے محلے دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ہمیں شرم آجاتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ مسلمان کیسی قوم ہے؟اسلام کہتا ہے کہ اچھے اور صاف کپڑے پہنو،اچھا کھانا کھاؤ اور اچھے انسان بنو۔ آپ کو بتا دوں کہ مذہب اسلام کا کسی فیشن سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔لیکن اس میں اعتدال ہونا چاہیے۔میانہ روی ہونی چاہیے۔

 گندے کپڑوں اور گندے محلے دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ہمیں شرم آجاتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ مسلمان کیسی قوم ہے؟

سوال: مسلمانوں کیلئے تعلیم کے معاملہ میں کیا پیغام ہے؟

مولانا مفتی مکرم احمد: بہت اچھا سوال ہے۔تعلیم کی کیا اہمیت ہے۔اس کا اندازہ آپ پیغمبر اسلام کے ایک واقعہ سے لگا یا جاسکتا ہے۔ جنگ ’بدر‘کے جو قیدی رہائی کیلئے ’فدیہ ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے،انہیں 10مسلمان بچوں کو پڑھا لکھنا سکھا کر آزاد ہوجائیں۔اب آپ بتائے جو دشمن تھا اس سے بھی تعلیم حاصل کرنے کا راستہ دکھایا گیا ہے۔تعلیم کا معاملہ تو ایسا ہے کہ آپ کو بھوکا رہ کر بچوں کو تعلیم دلانی چاہیے۔ پیغمبر اسلام نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ”۔ اگرکسی کے پاس زیادہ پیسے نہ ہوں تو صدقہ خیرات نہ کرے بلکہ اس پیسہ کو تعلیم پر خرچ کریں۔اس کو صدقہ اور خیرات کے برابر ہی ثواب ملے گا۔“ دیکھئے کتنی بڑی بات ہے۔ آجکل سب فضول خرچی میں لگے ہوئے ہیں۔

مسلمانوں کو بچوں کی تعلیم اور تربیت پر دھیان دینا چاہیے۔ہر ایک کی مدد کرنی چاہیے۔آج مسلمانوں نے اپنی روش چھوڑ دی ہے،دین تو صرف نام کا رہ گیا ہے۔ایسا سب کے ساتھ نہیں ہے،بہت سے لوگ ہیں جو مثالی ہیں،دین اور دنیا کے ساتھ چل رہے ہیں۔لیکن اکثریت نے اپنا تشخّص چھوڑ دیا ہے۔ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ جو فرقہ پرست الزام لگاتے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں۔

سوال: مسلمانوں کو کسی بھی موضوع یا بحث پر اکسانا یا بھڑکانا کیوں آسان ہے؟

مولانا مفتی مکرم احمد:مذہب میں صبر کی تلقین کی گئی ہے۔یہی دین کی تعلیم ہے۔ضرورت ہے۔کوئی اشتعال انگیزی کا شکار نہ ہوں۔ایسی سازشوں سے بچنا چاہیے۔حق کی بات کریں مگر اعتدال کے ساتھ۔

urdu.awazthevoice.

 آپسی میل جول اور رابطہ غلط فہمیاں اور دوریاں ختم کرتے ہیں ۔ مولانا مفتی مکرم 

سوال: دہلی میں ہم نے ہمیشہ بھائی چارہ دیکھا مگر دوسال کے دورا ن ماحول میں بڑی تبدیلی آئی ہے؟

مولانا مفتی مکرم احمد: یہ سب تو میڈیا کی مہربانی ہے۔ہم سب جانتے ہیں۔یہ زندگی ہے،یہ دو پہیوں پر ہی چلتی ہے۔ چاوڑی بازار دیکھ لیں۔ہندوس کی دوکان میں مسلمان ملازمت کررہا ہے تو مسلمان کے کارخانہ میں ہندو کام کررہا ہے۔سب ایک دوسرے کیلئے کام کررہے ہیں۔ایسی نفرت کی لہر وقتی ہوتی ہے۔اثر زیادہ دنوں تک نہیں رہتا ہے۔ لوگ جان جاتے ہیں کیا ہوا اور کیوں ہوا۔ملک کی مٹی میں ہی پریم ہے،یہ ملک مغل گارڈن کی طرح ہے،جس میں رنگ برنگے پھول لگے ہوتے ہیں۔انیکتا میں ایکتا ہے۔

  مذہب اسلام کا کسی فیشن سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔لیکن اس میں اعتدال ہونا چاہیے۔میانہ روی ہونی چاہیے۔

سوال:کرونا ویکسین پر بحث جاری ہے۔۔کیا کہنا پسند کریں گے آپ؟

مولانا مفتی مکرم احمد: سب سے اہم بات یہ ہے کہ افواہوں پر دھیان نہ دیا جائے۔ ویکسین میں کیا ہے؟ اس پر دھیان دینا چاہیے، اگر اس میں واقعی حرام اجزا شامل ہیں تو مسلمانوں کیلئے احتیاط لازمی ہے۔اگر کوئی اور علاج ممکن نہ ہو تو حالت مجبوری میں اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔لیکن ہمارے پاس بہت سے متبادل علاج ہیں،یونانی،آیورویدک،ہومیو پیتھک علاج ہے۔یوگا ہے۔ ایسی چیزوں کے ہوتے ہوئے حرام کی جانب جانے کی ضرورت نہیں ہے۔مجھے یقین ہے اگر ہم سب قدرتی طریقوں یعنی ہربل کا استعمال شروع کر دیں تو اس کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔اس معاملہ پر تو ”ہندو مہا سبھا“ نے بھی اعتراض اٹھایا ہے،اس لئے جو شک و شبہات ہیں،انہیں حکومت دور کردے۔سچائی کیا ہے۔ اس میں کیا اجزا ہیں۔

سوال: ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی برائے نام ہوتی جارہی ہے،ہر سیاسی پارٹی سے مسلمان نام اور چہرے غائب ہورہے ہیں؟

مولانا مفتی مکرم احمد: مسلمان اب اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرنا چاہ رہے ہیں یا پھر کسی ڈر کے سبب چپ بیٹھے ہوئے ہیں۔کوئی ڈر ستا رہا ہے۔یا پھر ذمہ داری کا احساس ختم ہوگیا ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے اس کی آواز ہی نہیں آتی ہے۔جو بڑی بڑی تنظیمیں ہیں سب بے آواز ہیں۔میں سیاست نہیں کرتا،میری کسی سیاسی پارٹی سے دوستی ہے نہ دشمنی۔میں کسی سیاسی پارٹی کا دشمن نہیں ہوں۔کسی لیڈر کا دشمن نہیں ہوں۔ہر ایک کا مخلص ہوں۔۔ دعا گو ہوں۔لیکن حق بات کہنے میں اور وہ بھی اچھے طریقہ سے ہمیں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔مسلمانوں کو اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے قوم کے مفادات کو دیکھتے ہوئے ملک کے فرقہ وارانہ ماحول اور اتحاد کیلئے کام کرنا چاہیے۔

awazthevoice

 کلام کو سلام ۔2007 کی ایک یادگار تصویر۔ جب سابق صدرمرحوم اے پی جےعبدلکلام نمازادا کرنےفتحپوری مسجد تشریف لائے تھے

سوال: وزیر اعظم نریندر مودی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ”منی انڈیا“ کہا تھا اپنے خطاب میں۔۔کیا کہیں گے آپ؟

مولانا مفتی مکرم احمد:جی ہاں! بہت اچھی بات ہے۔ یہی سچ ہے،یہی حقیقت ہے۔یہی ہماری تہذیب ہے۔ ان کا یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ ہمدرد کے ساتھ دیگر اداروں میں بھی کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے۔سب مل جل کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

سوال: پاکستان میں مندر پر حملہ ہوا۔اس پر ہندوستانی مسلمانوں کا ردعمل کیا ہونا چاہیے؟

مولانا مفتی مکرم احمد: شرمناک واقعہ ہے۔ سپریم کورٹ نے حرکت میں آکر کارروائی کی ہے۔یہ اسلام کے بنیاد ی اصولوں کے خلا ف ہے۔پیغمبر اسلام کے دور میں بھی کسی مذہب پر آنچ نہیں آئی تھی۔ایسا پاکستان میں کیا کہیں نہیں ہونا چاہیے۔دوسرے مذہب والے کو گالی بھی دینے کو منع کیا گیا ہے۔

سوال:کیا مسلمان ایسے واقعات کی مذمت کرنے میں سست یا پیچھے رہ جاتے ہیں؟

مولانا مفتی مکرم احمد: بالکل نہیں۔جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا ہے تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اگر افغانستان میں طالبان نے گوتم بدھ کا مجسمہ توڑا تو ہم نے اس کی مذمت کی تھی۔یہ سیاست ہے،بدنام کرنے کی۔ہم ہندوستانی مسلمان باہر نہیں دیکھتے۔جو بھی ہوتا ہے اس کیلئے باہری مدد نہیں مانگتے۔کسی بیرونی لیڈر کی تعریف نہیں کرتے،ہندوستانی لیڈروں کی تعریف کرتے ہیں اورانہیں پر یقتین و اعتماد کرتے ہیں۔

awerty

ایغور مسلمانوں کو انصاف ملنا چاہیے ۔ مولانا مفتی مکرم 

سوال:کیا دنیا بھر میں مسلمان دیگر مذاہب والوں کے ساتھ مل کر چلنا پسند نہیں کرتے، جس کے سبب کہیں نہ کہیں سے ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہوتا ہے؟فرانس،جرمنی اور دیگر ممالک اس کی مثالیں ہیں۔

مولانا مفتی مکرم احمد: دیکھئے! اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ہے کیونکہ میں دنیا کے ایسے ممالک میں نہیں گیا۔اس لئے کسی قسم کا تجربہ نہیں ہے۔کرتے ہیں۔

 عرب ہمارے لئے کوئی ”مثالی“ نہیں ہیں،ہم پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے پابند ہیں۔

سوال: عرب دنیا اور مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہورہے ہیں،اس تبدیلی کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

مولانا مفتی مکرم احمد:دیکھئے!عرب ہمارے لئے کوئی ”مثالی“ نہیں ہیں،ہم پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے پابند ہیں۔انہیں اپنی کرسی اور تخت کی فکر ہے۔لیکن دنیا فلسطین کے مسئلہ کو نظر اندازنہیں کرسکتی ہے۔اقوام متحدہ اس کی مذمت کررہا ہے تو پھر اس کے حق میں آواز اٹھانا یا اس کی حمایت میں کھڑا ہونا کیسے غلط ہوسکتا ہے۔

سوال:چین میں ایغور مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں؟

مولانا مفتی مکرم احمد:کوئی شبہ نہیں ٗ ان کی شناخت مٹائی جارہی ہے،ظلم ہورہا ہے۔ہم نے بھی اس پر آواز اٹھائی ہے۔ ان پر جلاد مسلط کئے گئے ہیں۔ انہیں غیر اسلامی چیزوں کی جانب راغب کیا جارہا ہے۔ اس کی سب کی مذمت کرنی چاہیے۔باقی کیا سیاست ہے اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔