غالب کے روزے

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | Date 07-03-2025
غالب کے روزے
غالب کے روزے

 

 ڈاکٹر عمیر منظر 
 شعبہ اردو 
 مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی 
لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ
مرزا غالب مرنجامرنج شخصیت کے مالک تھے۔ان کی زندگی کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جہاں رسائی ان کے خطوط سے ہوتی ہے۔غالب  کے خط ہی ان کی دلچسپ شخصیت کو بتاتے ہیں۔اسی لیے حالی نے انہیں حیوان ظریف کہا ہے ۔غالب نے جہاں اپنی عام زندگی کے بارے میں لکھا ہے وہیں مذہب سے اپنے تعلق اور ربط کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ واضح رہے کہ ان کے بیان میں انداز کا بہت دخل ہوتا ہے۔بیان کا منفرد انداز ان واقعات سے توجہ اور دلچسپی کا سبب ہے۔غالب نے اپنی زندگی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے ان میں معاشی تنگی اور پنشن کا قضیہ بہت نمایاں ہے۔زندگی کے سخت اور مشکل حالات بھی ان کے قلم سے نکل گئے ہیں۔نواب رام پور کے نام ان کے بہت سے خطوط کے مطالعہ سے اس بات کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ان چیزوں کے ساتھ ساتھ غالب نے روزہ اور رمضان کے بارے میں بھی لکھا ہے۔غالب نے زندگی کا ایک بڑا عرصہ معاشی تنگی میں گذارا،جس کا جگہ جگہ انھوں نے اظہار بھی کیا۔غالب نے اپنے خطوط میں اس بارے میں بہت کچھ لکھا ہے  اس تناظرمیں پہلے غالب کا ایک قطعہ ملاحظہ فرمائیں۔
افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو 
اس شحص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے 
جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو 
روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے 
روزوں کے حوالے سے غالب کے لطائف تو بہت مشہور ہیں۔لیکن اس کے علاوہ انھوں نے روزہ سے متعلق قطعہ اور رباعی بھی کہی ہے۔اپنے اسی ڈھب اور انداز میں۔یہ بات وہ دنیا کو باور کراچکے تھے کہ ان کے پاس کچھ نہیں اسی رعایت سے فائدہ اٹھاکر انھوں نے یہ قطعہ کہا جو بہت مشہور ہوا۔
روزہ افطار کے بعد اگر کچھ کھانے کو نہ ملے تو آخر وہ روزہ نہیں کھائے گا تو کیا کرے گا۔روزہ کھانا اور روزہ کھول کر کھانے سے مرزا نے خوب لطف پیدا کیا ہے۔
ایک رباعی میں مرزا کہتے ہیں 
سامان خور وخواب کہاں سے لاؤں 
آرام کے اسباب کہاں سے لاؤں 
روزہ مرا ایمان ہے غالب لیکن 
خس خانہ وبرفاب کہاں سے لاؤں 
یہاں بھی غالب کا وہی شکوہ ہے کہ روزہ پر میرا ایمان تو ہے مگر مجھے وہ سہولت حاصل نہیں۔میں غریب آدمی ہوں ایسی صورت میں ان سہولت کے اسباب کہاں سے مہیا ہوں گے۔
غالب کے بعض خطوط سے رمضان میں ان کی مصروفیت اور مشغولیت کا علم ہوتا ہے نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ تراویح کے عامل تھے۔ میرمہدی مجروح کے نام وہ لکھتے ہیں:
ماہ مبارک رمضان میں کبھی مسجد جامع کی تراویح ناغہ ہوئی ہے؟میں اس مہینے میں رام پور کیونکر رہتا،نواب صاحب مانع رہے اور بہت منع کرتے رہے۔ برسات کے آموں کا لالچ دیتے رہے مگر بھائی میں ایسے انداز سے چلا کہ چاند رات کے دن یہاں آپہنچا۔یکشنہ کو غرہ ماہ مقدس ہوااسی دن سے ہر صبح کو حامد علی خاں کی مسجد میں جاکر جناب مولوی جعفر علی صاحب سے قرآن سنتا ہوں۔شب کو مسجد جامع جاکر نماز تراویح پڑھتاہوں کبھی جو جی میں آتی ہے تو وقت صوم مہتاب باغ میں جاکر روزہ کھولتا ہوں اور سرد پانی پیتاہوں واہ واہ کیا اچھی طرح گذر بسر ہوتی ہے۔
مرزا غالب اپنی جس طبعی ظرافت کے لیے جانے جاتے تھے اس کا اندازہ ان کے اس خط سے ہوتا ہے۔زبان و بیان کا لطف خوب ہے۔وہ لکھتے ہیں 
دھوپ بہت تیز ہے۔ روزہ رکھتا ہوں مگر روزے کو بہلاتا رہتا ہوں۔ کبھی پانی پی لیا، کبھی حقہ پی لیا، کبھی کوئی روٹی کا ٹکڑا کھا لیا۔ یہاں کے لوگ عجب فہم رکھتے ہیں۔ میں تو روزہ بہلاتا ہوں اور یہ صاحب فرماتے ہیں کہ تُو روزہ نہیں رکھتا۔ یہ نہیں سمجھتے کہ روزہ نہ رکھنا اور چیز ہے اور روزہ بہلانا اور بات ہے۔
یہ دوسرا لطیفہ بھی بہادر شاہ ظفر کے حوالے سے بہت مشہور ہے۔واقعہ سازی کے لیے حاضر جوابی کس قدر ضروری ہے اسی سے اندازہ ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ جب ماہ رمضان گزر چکا تو بہادر شاہ بادشاہ نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ،”مرزا تم نے کتنے روزے رکھے؟ مرزا صاحب نے جواب دیا،پیرو مرشد ایک نہیں رکھا۔
مرزا کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے کی عام دلچسپی میں مذہبی معتقدات شامل تھے غالب کچھ بھی لکھیں لیکن یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عام ادبی معاشرہ میں مذہب کے تئیں عقیدت و محبت کاجذبہ تھا۔اسی وجہ سے مرزا کی حرکتوں پر لوگ ٹوکتے بھی تھے۔اسی وقت غالب کو اپنی طبع خداداد دکھانے کا موقع ملتا۔
ایک مرتبہ ماہ رمضان میں مرزا غالبؔ نواب حسین مرزا کے ہاں گئے اور پان منگاکر کھایا۔ ایک متقی پرہیزگار شخص جو پاس ہی بیٹھے تھے بڑے متعجب ہوئے اور پوچھا، ”حضرت آپ روزہ نہیں رکھتے؟“ مرزا صاحب نے مسکرا کر کہا، ”شیطان غالب ہے۔
مرزا غالب کے یہاں اک نوع کی چھیڑ چھاڑ کا معاملہ رہتا تھا اور اسی وجہ سے اپنے دوستوں کے حلقے میں  بہت سے واقعات اور حادثات پر اپنی رائے دیتے تھے۔کبھی کبھی ایسی باتیں کہہ جاتے کہ اس پر حیرت بھی ہوتی۔مولانا حالی نے یادگار حالی میں ایک جگہ لکھا ہے:
رمضان کا مہینہ تھا ایک سنی مولوی مرزا سے ملنے آئے عصر کا وقت تھا۔مرزا نے خذمت گار سے پانی مانگا۔مولوی صاحب نے تعجب سے کہا ”کیا جناب کا روزہ نہیں ہے؟مرزا نے کہا سنی مسلمان ہوں چارگڑھی دن رہے روزہ کھول لیتا ہوں۔یادگار غالب 88
رمضان میں ہمارے معاشرہ میں یہ بات زبان زد خاص و عام رہتی ہے کہ اس ماہ میں شیطان قید ہے،جس کی وجہ سے لوگ از خود نیکی کی طرف مائل رہتے ہیں۔اس سے غالب نے جو نکتہ پیدا کیا ملاحظہ فرمائیں۔
مرزا غالب رمضان کے مہینے میں دہلی کے محلے قاسم جان کی ایک کوٹھری میں بیٹھے پچسی کھیل رہے تھے۔ میرٹھ سے ان کے شاگرد مفتی شیفتہ دہلی آئے تو مرزا صاحب سے ملنے گلی قاسم جان آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ رمضان کے متبرک مہینے میں مرزا  پچسی کھیل رہے تھے۔ انہوں نے اعتراض کیا: مرزا صاحب ہم نے سنا ہے کہ رمضان میں شیطان بند کردیا جاتا ہے۔ مرزا غالب نے جواب دیا مفتی صاحب آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ شیطان جہاں قید کیاجاتا ہے، وہ کوٹھری یہی ہے۔
اس طرح کے بے شمار وقعات حیات غالب میں ملتے ہیں۔درج بالا واقعات ان کی ذہانت کا شاہ کار کہا جاسکتا ہے۔اس نوع کے واقعات سے مرزا کی بذلہ سنجی اور حاضر جوابی کا اندازہ ہوتا ہے۔آج کی اس دنیا میں اس طرح کے واقعات ذہنی ریلیف کا کام کرتے ہیں۔