عید شاعروں کے قلم سے

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | Date 03-04-2025
عید شاعروں کے قلم سے
عید شاعروں کے قلم سے

 

زیبا نسیم : ممبئی 

عید کا تہوار ہمیشہ سے خوشیوں اور محبت کے تبادلے کا موقع رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ عید کارڈز پر خوبصورت پیغامات لکھ کر ایک دوسرے کو بھیجا کرتے تھے، جو محبت اور اپنائیت کا ایک خوبصورت اظہار تھا۔ مگر وقت کے ساتھ دنیا بدلی، اور سوشل میڈیا کے آنے سے یہ روایتی عید کارڈز ڈیجیٹل پیغامات اور دلکش پوسٹس میں ڈھل گئے۔ اب لوگ رنگ برنگی تصاویر، تخلیقی پیغامات اور دلچسپ ویڈیوز کے ذریعے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔ایسے میں، جب ہم اپنی اردو شاعری کے خزانے کو کھنگالتے ہیں، تو عید کے جذبات کو خوبصورتی سے سمیٹنے والی بے شمار شاعری سامنے آتی ہے۔ شاعروں نے عید کو نہ صرف خوشی کے استعارے کے طور پر پیش کیا، بلکہ اس تہوار میں چھپے دکھ اور جدائی کے احساسات کو بھی بیان کیا ہے۔

عاشق کے لیے عید کی چمک دمک اور رونقیں اکثر اس کے دل کی تنہائی اور اداسی کو مزید نمایاں کر دیتی ہیں۔ جہاں سب خوشیوں میں مگن ہوتے ہیں، وہاں ایک بے قرار دل اپنے محبوب کی یاد میں تڑپتا ہے۔ کوئی عید کے چاند میں اپنے محبوب کا عکس دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، تو کوئی ہنستے مسکراتے چہروں کے درمیان اپنی جدائی کے غم کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔عید صرف خوشیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ یادوں، محبتوں اور کبھی کبھار ہجر کی تلخیوں کا بھی حصہ ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے ہماری شاعری میں عید کے خوشگوار لمحوں کے ساتھ ساتھ ان کہی اداسی بھی جھلکتی ہے، جو اس تہوار کو اور بھی معنی خیز بنا دیتی ہے۔

اردو کے شاعروں نے عید کو مختلف زاویوں سے دیکھا اور بیان کیا ہے۔ کچھ نے اس تہوار کی خوشیوں کا ذکر کیا، تو کچھ نے محبوب کی جدائی میں اداس عید کا نقشہ کھینچا۔

بقول نظیر اکبر آ بادی

پیار عید کے دن
گلے لگائیں کریں تم کو پیار عید کے دن
اِدھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دن
غضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کی
عیاں ہے قدرتِ پروردگار عید کے دن
سنبھل سکی نہ طبیعت کسی طرح میری
رہا نہ دل پہ مجھے اختیار عید کے دن
وہ سال بھر سے کدُورت بھری جو تھی دل میں
وہ دُور ہو گئی بس ایک بار عید کے دن
کہیں ہے نغمۂ بلبل ،کہیں ہے خندہ گل
عیاں ہے جوشِ شبابِ بہار عید کے دن
سویاں دودھ شکر میوہ سب مہیا ہے
مگر یہ سب ہے مجھے ناگوار عید کے دن
 

احمد فراز  کی زبانی

عید کارڈ

تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھا

مر مر کر یہ زہر پیا ہے

چپ رہنا آسان نہیں تھا

برسوں دل کا خون کیا ہے

جو کچھ گزری جیسی گزری

تجھ کو کب الزام دیا ہے

اپنے حال پہ خود رویا ہوں

خود ہی اپنا چاک سیا ہے

کتنی جانکاہی سے میں نے

تجھ کو دل سے محو کیا ہے

سناٹے کی جھیل میں تو نے

پھر کیوں پتھر پھینک دیا ہے

عاشق کی اداس عید

اردو شاعری میں عید صرف خوشی کا نام نہیں، بلکہ بعض اوقات یہ محبوب کی جدائی کا احساس بھی دلاتی ہے۔یہ اشعار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اردو شاعری میں عید اور چاند کا ذکر صرف خوشیوں کے لیے نہیں بلکہ عاشق کی اداسی اور فراق کے جذبات کے اظہار کے لیے بھی کیا گیا ہے۔ عید کا چاند جہاں ایک طرف خوشی اور امید کی علامت ہے، وہیں دوسری طرف جدائی کے کرب اور یادوں کی شدت کا استعارہ بھی ہے

نظیر اکبر آبادی

جس عید میں کہ یار سے ملنا نہ ہو نظیرؔ

اس کے اپر تو حیف ہے اور صد ہزار آہ

قمر بدایونی

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

ظفر اقبال
تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گی

عید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی

شاد عظیم آبادی

عید میں عید ہوئی عیش کا ساماں دیکھا

دیکھ کر چاند جو منہ آپ کا اے جاں دیکھا

 دلاور علی آزر

اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا
یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے
جلیل نظامی
ماہ نو دیکھنے تم چھت پہ نہ جانا ہرگز
شہر میں عید کی تاریخ بدل جائے گی
میر تقی میر
ہوئی عید، سب نے پہنے طرب و خوشی کے جامے
نہ ہوا کہ ہم بھی بدلیں یہ لباسِ سوگواراں
حیدر علی آتش
ہر شب شب برات ہے ہر روز روز عید
سوتا ہوں ہاتھ گردن مینا میں ڈال کے