منصور الدین فریدی/ نئی دہلی /دیوا شریف
: فضا میں گلال کے رنگوں نے ایک حسین سماں پیدا کردیا تھا،ماحول میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں ،ہر کسی کے چہرے رنگے ہوئے تھے،سب دیوانہ وار رقص کررہے تھے ،سبز اور سرخ رنگوں کا سنگم ہر پل آسمان کو پر کشش بنا رہا تھا ۔ رنگوں کے اس غبار کے پیچھے ایک سبز گنبد نظر آرہا تھا ، ہولی ہے ۔۔ ہولی ہے کی صدائیں گونج رہی تھیں ۔کوئی گلے مل رہا تھا اور کوئی ایک دوسرے کے چہروں پر رنگ لگا رہا تھا، محبت اور پیار کے اس ماحول میں ایک آواز ابھرتی ہے۔۔۔ محبت کرو۔۔محبت کرو اور صرف محبت کرو ۔۔ نفرت کرنے والے اس مقام پر آکر پہچان لیں کون ہندو ہیں اور کون مسلمان ۔؟
یہ آواز تھی بریلی شریف کے احمد اللہ وارثی کی۔جو بارابنکی کی درگاہ دیوا شریف کی روایتی اور تاریخی ہولی کے جشن میں غرق تھے۔چہرے پر گلال تھا اور اپنے ہندو ساتھیوں کے ساتھ ہولی منا رہے تھے۔عقب سے جے شری رام کے نعرے سنائی دے رہے تھے،نہ کوئی تناو تھا نہ ہی کوئی ٹکراو ۔ چہرے پر ایک سکون تھا اور جوش ۔ وہ بتا رہے تھے کہ اس مقام پر کوئی الگ الگ نہیں ،ہندو مسلمان سکھ اور عیسائی سب مل کر ہولی کھیلتے ہیں ۔ان کے غیر مسلم دوست نے اپنے سر سے ٹوپی اتار کر بتایا کہ اس ٹوپی کے سبب آپ کسی کو پہچان نہیں سکتے ہیں کہ کو ہندو ہے اور کون مسلمان۔رنگے ہوئے چہروں کو دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا کہ اس میں ہندو کون ہے اور مسلمان کون ۔
سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہورہا ہے ،جس میں جے شری رام کے نعروں کے ساتھ دیوا شریف کی درگاہ کے احاطے میں زبردست ہولی کا منظر نظر آرہا ہے ۔یہ ملک کے ماحول سے بالکل مختلف تصویر پیش کررہا تھا ۔ حد تثو یہ ہے کہ بارا بنکی بھی اتر پردیش میں ہے جہاں سنبھل میں جمعہ اور ہولی کے سبب شہر چھاونی بنا دیا گیا ہے ۔مساجد کو پردے میں کردیا گیا ہے ۔اس ماحول کے برعکس ایک صوفی بزرگ کی درگاہ پر یہ منظر اصل ہندوستان کی تصویر پیش کررہا ہے
यूपी में होली और नमाज को लेकर बहस चल रही वहीं देवा शरीफ में मुसलमानों ने मस्जिद में मनाई होली
— Amrendra Bahubali 🇮🇳 (@TheBahubali_IND) March 14, 2025
हिंदू मुस्लिम एकता का वीडियो आया सामने
होली पर जहर उगलने वाले मुस्लिमों पर लानत हे pic.twitter.com/PLpzF7Olqp
ایک صوفی بزرگ کی آخری آرام گاہ
آپ کو بتا دیں کہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سے تقریباً 42 کلومیٹر دور بارہ بنکی کے دیوا شریف درگاہ میں ہر سال ایک ایسی شاندار ہولی کھیلی جاتی ہے جو محبت، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کی روشن مثال بن چکی ہے۔ یہ شاید ملک کی واحد ایسی ہولی ہے جسے مسلمان اہتمام کے ساتھ منعقد کرتے ہیں اور اس میں اپنے ہندو دوستوں کو خصوصی طور پر مدعو کرتے ہیں۔دیوا شریف وہ تاریخی درگاہ ہے جہاں معروف صوفی بزرگ حاجی وارث علی شاہ آرام فرما ہیں۔ حاجی وارث علی شاہ کا تعلق حسینی سید خاندان سے تھا اور وہ ہمیشہ سے انسانیت، محبت اور اخوت کے علمبردار رہے۔ ان کے قریبی ساتھیوں میں ہر مذہب کے لوگ شامل تھے، جو آپسی محبت اور یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے تھے۔ وہ خود بھی اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ ہولی کھیلنے کی روایت رکھتے تھے، جو اب ایک بڑے سالانہ جشن کی صورت اختیار کر چکی ہے۔یہ خوبصورت روایت گزشتہ چالیس سال سے شہزادے عالم وارثی کے زیر نگرانی جاری ہے۔ ہر سال ہولی کے موقع پر دیوا شریف درگاہ میں رنگوں کی برسات ہوتی ہے، جہاں سینکڑوں لوگ رنگ اور گلال لے کر پہنچتے ہیں۔ اس منفرد ہولی میں مسلمانوں کی بڑی تعداد پہلے سے موجود ہوتی ہے اور بعد میں ہندو برادری کے لوگ بھی شامل ہو کر اس جشن کو مزید یادگار بنا دیتے ہیں۔
"جو رب ہے، وہی رام ہے" – صوفی پیغام
درگاہ کے آنگن میں جب رنگوں کی ہولی کھیلی جا رہی ہوتی ہے تو حاجی وارث علی شاہ کے عقیدت مند صوفیانہ اشعار اور "جو رب ہے، وہی رام ہے" جیسے محبت بھرے ترانے گنگناتے ہیں۔ یہ روحانی منظر لوگوں کو ایک نئی توانائی اور جوش فراہم کرتا ہے اور صوفی فلسفے کا عملی مظاہرہ پیش کرتا ہے۔دیوا شریف کی ہولی نہ صرف ایک ثقافتی و روحانی ورثہ بن چکی ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ محبت اور بھائی چارہ ہر حد اور سرحد سے بالاتر ہے۔
درگاہ دیو شریف میں ہولی – اتحاد اور بھائی چارے کا منفرد رنگ
متھرا، ورنداون اور برسانہ کی ہولی اپنی روایتی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، جہاں غیر ملکی سیاح بھی ان رنگارنگ تقریبات کا مشاہدہ کرنے آتے ہیں۔ خاص طور پر برسانہ کی لٹھ مار ہولی پورے ملک میں اپنی انفرادیت رکھتی ہے۔ تاہم، آج ہم ایک ایسی نایاب ہولی کی بات کر رہے ہیں جو بارہ بنکی میں واقع معروف صوفی بزرگ حاجی وارث علی شاہ کی درگاہ پر منائی جاتی ہے۔ یہاں ہولی کو پھولوں اور گلال کے ساتھ ایک منفرد انداز میں منایا جاتا ہے، جو دیکھنے والوں کے دل کو خوشی اور حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے۔اس روحانی اور پرامن ماحول میں ملک بھر سے لوگ خواہ وہ ہندو ہوں، مسلمان ہوں یا سکھ – سب یہاں آکر محبت کے رنگوں میں رنگ جاتے ہیں۔ اس موقع پر ہر شخص اپنی مذہبی شناخت سے بالاتر ہو کر صرف ایک انسان کی حیثیت سے جشن کا حصہ بنتا ہے۔درگاہ دیو شریف پر ہولی کے یہ حسین رنگ نہ صرف خوشی اور مسرت کا پیغام دیتے ہیں بلکہ پوری دنیا کو اتحاد اور بھائی چارے کی خوبصورت مثال بھی پیش کرتے ہیں۔