ڈاکٹر شبانہ رضوی
روزہ ایک قدیم روحانی اور جسمانی ریاضت ہے جو مختلف مذاہب میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہ عبادت نہ صرف انسانی روح کو پاکیزگی عطا کرتی ہے بلکہ صبر، ضبطِ نفس اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
تاریخ کے مختلف ادوار میں، دنیا کے بڑے مذاہب نے روزے کو ایک مقدس عمل قرار دیا ہے، جو فرد کی روحانی ترقی، سماجی ہمدردی اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنتا رہا ہے۔
یہ مضمون روزے کی روایت کا ایک تاریخی جائزہ ہے جس میں اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، بدھ مت اور دیگر مذاہب میں روزے کی اہمیت اور اس کے مختلف طریقوں پر روشنی ڈالی گی ہے ۔
قدیم مذاہب میں روزے کی روایت:
روزہ ایک قدیم مذہبی عبادت ہے جو مختلف تہذیبوں میں تزکیۂ نفس، روحانی پاکیزگی، اور خدائی قربت کے لیے اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ ہندو مت میں روزے (برت) کو ایک مقدس عمل سمجھا جاتا ہے، جس کا ذکر ویدوں میں ملتا ہے۔
اسلام میں روزے کی تاریخ-
نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل عربوں میں بھی روزے کا تصور موجود تھا۔ قریش یومِ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور اس دن جمع ہو کر کعبہ کو غلاف پہناتے تھے۔اس روزے کی ایک توجیہ یہ تھی کہ قریش نے کسی بڑے گناہ کا کفارہ دینے کے لیے یہ روزہ مقرر کیا تھا، جبکہ دوسری روایت کے مطابق، قحط سے نجات پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے انہوں نے یہ روزہ رکھنا شروع کیا۔ نبی کریم ﷺ بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھا کرتے تھے
اانبیاء کرام کے روزے:
حضرت نوح علیہ السلام:کہا جاتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے پیروکار طوفانِ نوح کے دوران مسلسل روزے رکھتے تھے تاکہ اللہ کی رحمت ان پر نازل ہو۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام:یہودی روایات کے مطابق، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تورات حاصل کرنے سے قبل چالیس دن کا روزہ رکھا تھا۔
حضرت داؤد علیہ السلام :نبی کریم ﷺ نے حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے کو بہترین روزہ قرار دیا۔ حضرت داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔
نبی کریم ﷺ کے روزے:
قبل از فرضیتِ رمضان:
رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے سے قبل، نبی کریم ﷺ مختلف دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے۔ یومِ عاشورہ کا روزہ خاص طور پر رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔
پیر اور جمعرات کے روزے:
نبی کریم ﷺ پیر اور جمعرات کے روزے اہتمام سے رکھتے اور فرمایا:
"پیر کا دن وہ دن ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔" (مسلم)
یہ دونوں دن اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جانے کے بھی دن ہیں، اس لیے نبی کریم ﷺ ان میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
یہ واضح ہے کہ روزہ محض امتِ محمدیہ پر فرض نہیں کیا گیا بلکہ یہ عبادت تمام پچھلی امتوں میں بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود رہی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام نے روزہ رکھ کر اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی اور ان کے طرزِ عمل کو نبی کریم ﷺ نے بھی سراہا۔
روزے کا اسلامی فلسفہ اور مقصد:
اسلام میں روزہ محض ایک جسمانی عبادت نہیں، بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے جو انسان کو صبر، استقامت، اور تقویٰ کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ یہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے بلکہ انسان کی روحانی، اخلاقی اور جسمانی ترقی کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ روزہ ہمیں خود شناسی، خدا شناسی، اور اجتماعی ہمدردی کا درس دیتا ہے، جو ایک متوازن اور صالح معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔روزہ دنیا کے مختلف مذاہب میں ایک مشترکہ روحانی عمل رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد تزکیۂ نفس، ضبطِ نفس، عبادت، اور گناہوں کی معافی ہے۔ اگرچہ ہر مذہب میں روزے کے احکام اور طریقے مختلف ہیں، لیکن اس کا اصل فلسفہ ہمیشہ خدا کی قربت، خود پر قابو، اور روحانی ترقی پر مرکوز رہا ہے۔ یہ عبادت انسان کو جسمانی خواہشات پر قابو پانے اور روحانی پاکیزگی کی طرف مائل کرتی ہے، جو ہر مذہب کی اخلاقی تعلیمات کا ایک لازمی جزو ہے۔ آج کے دور میں بھی روزے کی روایت دنیا بھر میں مختلف طریقوں سے زندہ ہے، جو اس کی عالمگیریت اور انسانی فطرت سے ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہے۔
ہندو مت میں روزے کا ذکر-
ہندو مت کے مطابق، روزہ (برت) تزکیہ اور روحانی ترقی کے لیے رکھا جاتا ہے۔ ہندو محقق ٹی ایم مہادیون کے مطابق، ہندو مذہب میں مختلف تہواروں اور مخصوص دنوں میں روزے رکھنے کی روایت موجود ہے۔
"جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، اسے سخت تپسیا (ریاضت) اور روزے کے ذریعے اپنے آپ کو پاک کرنا چاہیے۔"(یجروید، 19:30)
"روزہ رکھنے سے جسم کے زہریلے اثرات دور ہو جاتے ہیں اور انسان کی روحانی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔"(اتھرو وید، 6:112)
"جو لوگ امرت (پاکیزگی) چاہتے ہیں، وہ پونم (پورے چاند) اور امرواسیا (نئے چاند) کے دن برت رکھیں۔"(رگوید، 10:45)
"برہمنوں کو چاہیے کہ وہ ویکنتا ایکاوشی کے دن روزہ رکھیں تاکہ وہ وشنو کی رحمت کے مستحق بن سکیں۔"(سام وید، 4:17)
"جوگیوں اور رشیوں کو چاہیے کہ وہ چالیس دنوں کا برت رکھیں تاکہ وہ برہما گیان حاصل کر سکیں۔"(اتھرو وید، 8:5)
ویدوں میں روزے کو پاکیزگی، کفارہ، اور عبادت کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ مختلف اقسام کے برت مخصوص دیوتاؤں کی خوشنودی، گناہوں کے کفارے، اور روحانی ترقی کے لیے رکھے جاتے تھے۔ آج بھی ہندو معاشرت میں یہ روایت برقرار ہے، جہاں لوگ مذہبی، روحانی، اور صحت کے مقاصد کے تحت روزہ رکھتے ہیں۔
جین مت میں روزہ ایک اہم روحانی عبادت ہے، جس کا مقصد جسمانی تزکیہ، نفسانی خواہشات پر قابو پانا اور کرمن (کرم کے اثرات) سے نجات حاصل کرنا ہے۔ جین سنیاسی سخت ریاضتوں اور روزوں کے ذریعے روحانی ترقی کی منازل طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(حوالہ: جین دھرم کے مذہبی اصول(
جین مت میں روزہ محض کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں بلکہ اسے نفسانی خواہشات پر قابو پانے اور کرمن کے اثرات سے نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مذہبی سنیاسیوں کے لیے طویل روزے ایک عام روایت ہیں، جنہیں سخت ریاضتوں کا لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے۔
پارسی مذہب میں روزے کا تصور-
پارسی مذہب، جس کی بنیاد زرتشت نے رکھی، چھٹی صدی قبل مسیح میں ایران میں وجود میں آیا۔ مسلمانوں کی فتوحات کے بعد پارسی برادری کا ایک بڑا حصہ ہندوستان منتقل ہو گیا۔پارسی مذہب میں روزے کا تصور دیگر مذاہب سے مختلف ہے۔ اگرچہ قدیم پارسی متون میں روزے کا ذکر موجود ہے، لیکن عمومی طور پر روزہ رکھنا لازم نہیں سمجھا جاتا۔ پارسی عقیدے کے مطابق، جسم کو مشقت میں ڈالنا روحانی ترقی کے لیے ضروری نہیں۔ وہ روزے کو صرف کھانے پینے سے پرہیز تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے اخلاقی اور روحانی تطہیر کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک حقیقی روزہ یہ ہے کہ انسان اپنی زبان، آنکھوں، کانوں اور ہاتھوں سے کسی برے عمل یا گناہ میں ملوث نہ ہو۔
مولانا سید سلیمان ندوی اپنی کتاب سیرت النبی میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ عام پارسی پیروکاروں پر روزہ فرض نہیں، تاہم ان کی مذہبی کتابوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ خاص طور پر مذہبی پیشواؤں کے لیے مخصوص اوقات میں روزے رکھنا لازمی تھا۔ بعض تاریخی حوالوں کے مطابق، قدیم پارسی روایات میں مذہبی شخصیات کے لیے پانچ سالہ ریاضتوں کا تصور موجود تھا، جس میں وہ مخصوص شرائط کے تحت پرہیز اور عبادات کرتے تھے۔ (حوالہ: سیرت النبی، سید سلیمان ندوی(
تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں پارسی مذہب میں روزے کا ایک مضبوط تصور موجود تھا، لیکن بعد میں سخت روزوں کے خلاف ایک ردعمل پیدا ہوا اور عام پیروکاروں میں اس کا رواج ختم ہوتا گیا۔ آج پارسی عقیدے میں یہ تصور باقی ہے کہ اصل روزہ خود کو گناہوں سے بچانے اور اچھے اخلاق اپنانے کا نام ہے، نہ کہ صرف کھانے پینے سے پرہیز کرنے کا۔
یہ نقطہ نظر پارسی مذہب کو دیگر مذاہب سے منفرد بناتا ہے، جہاں روزے کو جسمانی مشقت کے بجائے روحانی اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
بدھ مت میں روزے کی اہمیت-
بدھ مت، جو مہاتما بدھ کی تعلیمات پر مبنی ہے، میں روزہ ایک اہم روحانی عمل سمجھا جاتا ہے۔ بدھ راہب (بھکشو) مخصوص دنوں میں روزہ رکھتے ہیں تاکہ خود پر قابو اور روحانی پاکیزگی حاصل کر سکیں۔
تبت میں بدھ مت کے پیروکار چار دن تک روزہ رکھتے ہیں:
بدھ مت میں روزہ صرف ظاہری عبادت نہیں، بلکہ خود پر قابو پانے کا ذریعہ ہے۔ مہاتما بدھ کے نزدیک اعتدال ضروری ہے، اور وہ سخت جسمانی مشقت کے خلاف تھے۔ ان کی تعلیمات کے مطابق، روحانی ترقی کے لیے روزہ کے ساتھ ساتھ اخلاقی ضبط بھی ضروری ہے۔
یہودیت میں روزے کی روایت-
یہودیت میں روزے کا بنیادی مقصد تزکیۂ نفس اور گناہوں سے تطہیر ہے۔ سب سے اہم فرض روزہ "یومِ کفارہ"ہے، جو یہودی سال کے ساتویں مہینے (تشری) کی دسویں تاریخ کو رکھا جاتا ہے۔ یہ روزہ تقریباً 26 گھنٹے جاری رہتا ہے، جس کے دوران کھانے پینے، میاں بیوی کے تعلقات، اور آرام دہ اشیاء کے استعمال سے اجتناب کیا جاتا ہے۔
یہودیت میں روزے کو خدا کی طرف رجوع اور نفس کی پاکیزگی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بعض قدیم یہودی فرقے، جیسے Essences، روزے کو روحانی ترقی کا لازمی عمل مانتے تھے۔
مسیحیت میں روزے کی روایت-
مسیحیت میں روزے کو عبادت اور پرہیزگاری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ نے چالیس دن کا روزہ رکھا، جیسا کہ متی کی انجیل میں ذکر ہے۔ انہوں نے تعلیم دی کہ روزہ ریاکاری کے لیے نہیں بلکہ خالص اللہ کے لیے ہونا چاہیے۔
موجودہ دور میں مختلف مسیحی فرقے روزے کے بارے میں مختلف نقطہ نظررکھتے ہیں، کچھ میں اسے فرد کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ کچھ میں اب بھی اجتماعی طور پر اس پر عمل ہوتا ہے۔