اسرائیل: 3,800 سال پرانا تعویذ دریافت

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | Date 04-04-2025
اسرائیل:  3,800 سال پرانا تعویذ  دریافت
اسرائیل: 3,800 سال پرانا تعویذ دریافت

 

یروشلم : اسرائیل کے علاقے تل عذیقہ میں ایک تین سالہ بچی، زیو نیتسان، نے غیر ارادی طور پر ایک نایاب آثارِ قدیمہ کی دریافت کر لی۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ چہل قدمی کر رہی تھی جب اس نے زمین پر بکھرے ہزاروں پتھروں میں سے ایک چمکدار پتھر اٹھایا، جو بعد میں 3,800 سال پرانا تعویذ نکلا۔

پتھر نہیں، ایک تاریخی خزانہ

زیو کی بڑی بہن، عمر نیتسان، نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا، "ہمارے ارد گرد ہزاروں عام پتھر بکھرے ہوئے تھے، لیکن زیو نے جو پتھر اٹھایا، وہ کچھ خاص تھا۔ جیسے ہی ہم نے اس پر لگی ریت کو صاف کیا، ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ کوئی عام پتھر نہیں بلکہ آثارِ قدیمہ کی ایک اہم شے ہو سکتی ہے۔"

زیو کے والدین نے فوراً اس دریافت کی اطلاع اسرائیلی محکمہ آثارِ قدیمہ کو دی، جس نے بعد میں تصدیق کی کہ یہ تعویذ "کنعانی سکارب" ہے، جو کانسی کے دور کی ایک قدیم اور قیمتی شے ہے۔

کنعانی سکارب: مصر اور مشرق وسطیٰ کی قدیم ثقافت کا حصہ

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق، کنعانی لوگ ایسے سکارب تعویذ اور مہریں استعمال کرتے تھے، جن پر مختلف نشانات یا پیغامات کندہ ہوتے تھے۔ ان کا تعلق قدیم مصر کی مذہبی روایات سے بھی تھا، جہاں سکارب کی شکل والے یہ تعویذ تخلیق اور زندگی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

قدیم مصریوں کا ماننا تھا کہ گولے بنانے والا کیڑکی سورج دیوتا کا نمائندہ ہے، کیونکہ یہ جس طرح گوبر کے گولے کو دھکیلتا ہے، اسی طرح دیوتا سورج کو آسمان میں حرکت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصری زبان میں اس کیڑے کا نام بھی ’پیدا ہونا‘ کے معنی سے جڑا ہوا ہے۔

تل عذیقہ: ہزاروں سال پرانی تاریخ کا گواہ

تل عذیقہ میں ماہرین 15 سال سے کھدائی کر رہے ہیں، جہاں سے مختلف ادوار کے نوادرات دریافت ہو چکے ہیں۔ ان میں قدیم شہر کی فصیلیں، زرعی ڈھانچے اور مصری و کنعانی ثقافتوں کے اثرات کے شواہد شامل ہیں۔

تل ابیب یونیورسٹی کے ماہر آثارِ قدیمہ، اوڈیڈ لپشیٹس، نے کہا، "تل عذیقہ درمیانے اور آخری کانسی کے دور میں یہودیہ کے نشیبی علاقوں کا ایک اہم شہر تھا۔ زیو کی دریافت نے یہاں پائے جانے والے مصری اور کنعانی ثقافتی تعلقات کی تصدیق کر دی ہے۔"

ایک غیر معمولی دریافت کا اختتام

زیو نیتسان کی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ کبھی کبھار، سب سے حیرت انگیز تاریخی دریافتیں غیر متوقع لمحات میں ہو سکتی ہیں۔ ایک عام چہل قدمی کے دوران ملنے والا یہ چھوٹا سا پتھر درحقیقت ہزاروں سال پرانی تاریخ کا ایک انمول ٹکڑا بن گیا ہے، جو قدیم تہذیبوں کے درمیان تعلقات پر نئی روشنی ڈالتا ہے۔