شیخ ابوبکر احمد نے ایل ایل بی منتخب وکلاء کومبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ دینیات کے طلبا کا ڈاکٹرز،انجینئرز اور لائیرس بننا قابل فخر ہے۔انہوں نے کہاکہ نئی نسل دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کے حصول پر اپنی توجہ مرکوز رکھے۔کیونکہ آج ضرورت قوم کو آگے بڑھانے کی ہے ،لیکن اس کے لئے دینی تعلیم کے ساتھ ماڈرن ایجوکیشن بیحد ضروری ہے۔ جس کے بعیرملک وسماج کی اچھی خدمات نہیں ہوسکتی ہے۔
مرکز الثقافہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مدہبی تعلیم کے ساتھ ماڈرن تعلیم دی جاتی ہے۔حافظ ہونے کے ساتھ ساتھ ہائی اسکول اور مولوی،فاضل کے ساتھ ساتھ ڈگری،گریجویشن کی تعلیم مکمل کرائی جاتی ہے ۔ تقریبا ۵۰ہزار سے زائد مختلف شعبہ میں طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں۔
شیخ اوبکر احمد کا ماننا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا ایک مضبوط بنیادی ڈھانچہ بہت ضروری ہے جسے اعلیٰ قدر کی خدمات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یہ انسان کو اس کے فرائض اور حقوق سے آگاہ کرتا ہے۔ کسی کے لیے قانونی آگاہی بھی ضروری ہے۔ چونکہ بہت سے لوگ قانونی تعلیم سے واقف نہیں ہیں، اس لیے ان کے حقوق اور استحقاق سے انکار کیا جاتا ہے اور موجودہ دور کے حالات میں مختلف حالات پر ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ قانونی امداد ایک منظم معاشرے کے وجود کے لازمی حصہ ہے۔ جب تک غریب اورغیر تعلیم یافتہ لوگوں کی قانونی مدد نہیں کی جاتی ۔۔۔۔ انہیں انصاف کے حصول کے مواقع سے محروم رکھا جائے گا۔
مرکز لاء کالج کا کیرالہ کے قبائلی گروپوں سے لے کر آسام تک شہریت کے مسائل پرقانونی امداد فراہم کرنے میں ایک بہت بڑا ٹریک ریکارڈ ہے۔اب اس ادارے نے اچھے سسٹم اور سہولیات کے ساتھ ایک قانونی امداد کا کلینک قائم کیا ہے جو عوام کے لیے ان کے قانونی سوالات اور ضروریات کے لیے کھلا ہے۔
نالج سٹی کے دین اور دنیا کے درمیان بہترین بیلنس نے نئی نسل کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں اور موجودہ وقت میں اس بات کا احساس دلا دیا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے خواہ وہ میدان قانون کا ہو یا میڈیکل کا یا پھر کھیل کود کا